آئل ٹینکرز کارٹل پر 6 کروڑ جرمانہ عائد

سی سی پی نے آئل ٹینکرز کارٹل پر کرایوں کے ناجائز تعین اور پرچی باری سسٹم پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

مقابلے کے کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر کارٹل بنانے کا الزام ثابت ہونے کے بعد 6 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ فیصلہ آئل ٹینکرز کارٹل کے خلاف طویل تحقیقات کے بعد سنایا گیا ہے جس میں مال بردار گاڑیوں کے کرایوں کی غیر قانونی طور پر اجتماعی قیمتیں مقرر کرنے کا انکشاف ہوا۔

سی سی پی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن طویل عرصے سے ایک منظم کارٹل کے طور پر کام کر رہی تھی جو تیل کی نقل و حمل کے کرایوں کو اپنی مرضی سے کنٹرول کرتی تھی۔ اس کے علاوہ ایسوسی ایشن نے ‘پرچی’ اور ‘باری’ کا ایک غیر قانونی نظام بھی نافذ کر رکھا تھا جس کے تحت ٹینکرز کی باریاں لگائی جاتی تھیں تاکہ مسابقت کو ختم کیا جا سکے۔

کمیشن نے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ کرایوں کے اجتماعی تعین کے اس غیر قانونی عمل کو فوری طور پر ختم کرے۔ ساتھ ہی پرچی اور باری کے نظام کو بھی مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں آزادانہ مسابقت بحال ہو سکے۔

ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ سی سی پی کا یہ اقدام ملک میں تیل کی نقل و حمل کے شعبے میں شفافیت لانے اور صارفین کو مصنوعی مہنگائی سے بچانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ 6 کروڑ روپے کے اس جرمانے سے دیگر صنعتی شعبوں کو بھی واضح پیغام ملتا ہے کہ مقابلے کے قوانین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔