مشرق وسطیٰ بحران، AI: اقوام متحدہ اجلاس کا مرکز
اقوام متحدہ کا آئندہ اجلاس، جس میں دنیا بھر کے رہنما شرکت کریں گے، مشرق وسطیٰ کے بحران اور مصنوعی ذہانت (AI) کے معاملات پر غالب رہے گا۔ اس اہم اقوام متحدہ اجلاس سے قبل سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ‘دھماکے کے سنگین خطرے’ سے دوچار ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال سر فہرست ہے۔
گوتیرس نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ، مغربی کنارے میں کشیدگی، اور دیگر علاقائی تنازعات نے پورے خطے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مشترکہ کوششیں کریں تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔
علاوہ ازیں، مصنوعی ذہانت کا تیزی سے ارتقاء بھی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہو گا۔ عالمی رہنما AI کے اخلاقی استعمال، اس کے ممکنہ خطرات اور اس سے پیدا ہونے والے سماجی و اقتصادی اثرات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس بات پر بھی زور دیا جائے گا کہ AI کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کے منفی پہلوؤں سے کیسے بچا جائے۔
اجلاس کے دوران، تنظیم کے اگلے سربراہ کے انتخاب یا اس کی مدت میں توسیع کے حوالے سے بھی اندرونی بحث و مباحثہ متوقع ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان اس عہدے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جو کہ اقوام متحدہ کی مستقبل کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
