وائٹ ہاؤس قریب فائرنگ:2 گارڈ زخمی،افغان نژاد مشتبہ گرفتار
واشنگٹن: امریکی دارالحکومت میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے، جن کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔
امریکی حکام کے مطابق واقعہ وائٹ ہاؤس سے ایک بلاک کے فاصلے پر پیش آیا، جہاں ایک مسلح شخص نے ڈیوٹی پر موجود نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ زخمی ہونے والے دونوں اہلکاروں کا تعلق ویسٹ ورجینیا سے ہے۔ فائرنگ کے بعد موقع پر موجود ایک اور نیشنل گارڈ نے بھی جوابی کارروائی کی۔
ڈائریکٹر ایف بی آئی اور متعلقہ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ حملہ آور اکیلا تھا، جب کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ فائرنگ کس وجہ سے ہوئی، اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی حکام کے مطابق زیرِ حراست مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی ہے، جو 2021 میں امریکا آیا تھا اور ریاست واشنگٹن میں بھی قیام پذیر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو واقعے کے وقت فلوریڈا میں موجود تھے، نے کہا کہ فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص بھی زخمی ہوا ہے اور تینوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جاچکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کو "اپنے عمل کی بھاری قیمت چکانا ہوگی”۔
فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر فوری طور پر لاک ڈاؤن کردیا گیا، جب کہ رونالڈ ریگن ایئرپورٹ پر کچھ دیر کے لیے پروازیں روک دی گئیں، جو بعد میں بحال کردی گئیں۔ امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ فائرنگ کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔
میئر واشنگٹن نے واقعے کو "ٹارگٹڈ شوٹنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے سیکیورٹی ادارے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
