فارورڈ بلاک کے 10 وزراء پی پی آزاد کشمیر میں شامل-آزاد کشمیر میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ جاری ،صدر ریاست بیرسٹر سلطان گروپ اور ماجد خان گروپ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہو گیا ۔
آزاد کشمیر میں وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور حکومت سازی کے لئے پیپلز پارٹی متحرک ہے ، بیر سٹر سلطان اور ماجد خان گروپ کے ممبران اسمبلی و وزراء چوہدری یاسر سلطان، سردار محمد حسین، چوہدری محمد اخلاق،چوہدری ارشد حسین اور چوہدری محمد رشید اور ملک ظفر،ماجد خان ،فہیم اختر ربانی، محمد عاصم شریف،چوہدری اکبر ابرہیم کی زرداری ہاوس اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی انچارج سیاسی امور آزاد کشمیر فریال تالپور سے ملاقات میں باقاعدہ پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر میں شمولیت کا اعلان کردیا۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری محمد ریاض بھی ملاقات میں موجود تھے۔ فریال تالپور نے پی پی پی میں نئے آنے والوں کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی شمولیت سے آزاد جموں و کشمیر میں پارٹی کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی حقیقی نمائندہ رہی ہے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں ان کے سیاسی و معاشی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔نئے شامل ہونے والے رہنماں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن اور قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور صدر آصف علی زرداری نے پارٹی کے جمہوریت، ترقی اور عوامی خدمت کے مشن کو آزاد جموں و کشمیر میں آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین نے بیر سٹر گروپ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے نئے شامل ہونے والوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شمولیت سے پارٹی مزید مضبوط ہو گی اور آزاد کشمیر میں حکومت بنا کر قائد عوام اور شہید بی بی ویژن کے مطابق ریاست کی ترقی اور عوام کی خدمت کا مشن جاری رکھیں گے ،ذرائع کے مطابق فاروڈ بلاک کے ماجد خان کی سربراہی میں بننے والے گروپ کے بھی پیپلز پارٹی سے معاملات طے ہو گئے ہیں۔ قبل ازیںحکومت سازی کے لیے صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ آصف علی زرداری نے شہباز شریف کو آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے فیصلے پر اعتماد میں لیا، شہباز شریف نے مسلم لیگ آزاد کشمیر امور کمیٹی کو پیپلز پارٹی سے مذاکرات کا ٹاسک سونپ دیا۔ مسلم لیگ ن کی کمیٹی میں احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور امیر مقام شامل ہیں اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات سے قبل کمیٹی نے مسلم لیگ آزاد کشمیر سے مشاورت شروع کر دی ہے۔پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے بعد وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی آزادکشمیر کے معاملات پر قائم خصوصی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز طلب کر لیا، اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی کمیٹی اپنے اجلاس میں حکمت عملی کو حتمی شکل دے گی ، سعودی عرب روانگی سے پہلے شہباز شریف کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دیں گے، اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کی آزادکشمیر کیلئے قائم کمیٹی کا اجلاس ہو گا، جس میں مسلم لیگ (ن) مستقبل کا لائحہ عمل اور حکمت عملی طے کرے گی۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی جلد مسلم لیگ ن کو آزاد کشمیر میں شراکت اقتدار کی دعوت دے گی۔پی پی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ن لیگ کو آزاد کشمیر حکومت میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے، پی پی قیادت کو حکومت میں ن لیگ کی شمولیت پر اعتراض نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق پی پی قیادت کے لئے آزاد کشمیر میں ن لیگ سے شراکت اقتدار قابل قبول ہے، پارٹی کا موقف ہے کہ اس شراکت سے حکومت مستحکم رہے گی، اور نتیجتاً جمہوریت مضبوط ہوگی۔پیپلز پارٹی قائدین کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر میں پی پی اور ن لیگ کی اتحادی حکومت جمہوریت پسندوں کیلئے ایک مثبت پیغام ہوگی، اور ن لیگ سے شراکت اقتدار کے معاملے پر بھی مثبت جواب ملنے کی توقع ہے۔
