فرانس میں طلبہ کا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا،440 افراد گرفتار

فرانس میں طلبہ کا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا،440 افراد گرفتار-طلبہ کے بعض مطالبات قابل فہم ہیں، تاہم احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات باعث تشویش ہیں۔

فرانس میں طلبہ کا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا،440 افراد گرفتار-فرانس میں تعلیمی نظام کے مسائل کے خلاف طلبہ کا احتجاج پیرس سے نکل کر ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا، مظاہروں کے دوران پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آئے جبکہ حکام کے مطابق 440 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 76 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

فرانسیسی حکام کے مطابق گرفتار افراد میں بڑی تعداد کم عمر افراد کی ہے۔ احتجاج کا آغاز گزشتہ ہفتے پیرس اور اس کے گردونواح سے ہوا تھا، تاہم بعد ازاں دیجون، لیون، اسٹراسبرگ، لِل اور مارسیل سمیت مختلف شہروں میں بھی طلبہ نے احتجاج شروع کردیا۔

طلبہ کی جانب سے کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اساتذہ کی کمی، تعلیمی سہولیات کے فقدان اور اسکولوں میں کام کے نامناسب حالات کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

طلبہ تنظیم یو ایس ایل کے مطابق ملک بھر کے سیکنڈری اسکولوں میں احتجاجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور تنظیم نے آنے والے دنوں میں مزید مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

مختلف شہروں میں مظاہرین کی جانب سے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے، کوڑے دانوں کو آگ لگانے اور پولیس پر اشیا پھینکنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس کے بعد بعض مقامات پر پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری کے مطابق احتجاج کے دوران طلبہ اور اسکول عملے سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے بعض مطالبات قابل فہم ہیں، تاہم احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات باعث تشویش ہیں۔

حکام کے مطابق منگل کے روز بھی کئی اساتذہ اور طلبہ زخمی ہوئے جبکہ ایک استاد پر حملے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ دوسری جانب بعض مقامات پر پولیس کی کارروائیوں پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

ایک 16 سالہ طالبہ نے فرانسیسی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ طلبہ توڑ پھوڑ کے لیے نہیں بلکہ تعلیمی نظام کی مشکلات اجاگر کرنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ طالبہ کے مطابق بعض کلاسوں میں 34 تک طلبہ موجود ہوتے ہیں جبکہ اساتذہ پر کام کا دباؤ بھی بہت زیادہ ہے۔

طلبہ تنظیم یو ایس ایل نے حکومت پر مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ وزیر داخلہ لورینٹ نونیز نے پولیس کے ردعمل کو مناسب اور متوازن قرار دیا۔

وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو نے بھی طلبہ کے احتجاج میں مزید شدت پیدا کرنے سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔

طلبہ تنظیم نے 6 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کی کال بھی دی ہے۔ یہ مظاہرے ایسے وقت میں جاری ہیں جب فرانس میں اساتذہ، اسپتال کے عملے اور دیگر سرکاری ملازمین کی جانب سے اجرتوں اور کام کے حالات سے متعلق مسائل پر بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔