اشتہار کے لیے جگہ (728x90)

مشرق وسطیٰ جنگ،پنجاب اور بلوچستان میں تعلیمی ادارے بند

مشرق وسطیٰ جنگ،پنجاب اور بلوچستان میں تعلیمی ادارے بند

مشرق وسطیٰ میں کشیدہ جنگی صورتحال کے پیش نظر پنجاب اور بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق پنجاب میں تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی جبکہ بلوچستان میں تعلیمی ادارے 9 مارچ سے 23 مارچ تک بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ممکنہ معاشی دباؤ اور پٹرولیم بحران کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت صوبے بھر میں تعلیمی ادارے بند رہیں گے تاہم امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے اور طلبہ کو آن لائن کلاسز کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

پٹرولیم بحران کے پیش نظر صوبائی وزرا کے لیے سرکاری ایندھن کی فراہمی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں فوری طور پر پچاس فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

حکومت پنجاب نے سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت صرف ضروری عملہ ہی دفاتر میں حاضر ہوگا۔ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز منعقد کی جائیں گی۔ نجی شعبے کو بھی ورک فرام ہوم اپنانے، غیر ضروری تقریبات سے گریز کرنے اور صرف ضروری عملہ دفتر بلانے کی ایڈوائزری جاری کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ ہارس اینڈ کیٹل شو کا سالانہ ثقافتی میلہ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور فراہمی کی نگرانی کے لیے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو پٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام تیار کرنے کا ٹاسک بھی دے دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اشیائے ضروریہ کی غیر ضروری خریداری اور ذخیرہ اندوزی سے گریز کیا جائے۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے بھی صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ محکمہ تعلیم اسکولز کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں موجودہ علاقائی صورتحال اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان میں تمام تعلیمی ادارے 9 مارچ 2026 سے 23 مارچ 2026 تک بند رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ نقل و حرکت اور ٹرانسپورٹ سے متعلق مسائل کے پیش نظر عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ جاری داخلہ مہم، اسکولوں کی ڈیجیٹل مردم شماری اور اگر کسی امتحان کا شیڈول پہلے سے مقرر ہے تو وہ معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔ متعلقہ افسران اور عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان سرگرمیوں کو محکمہ تعلیم کی ہدایات کے مطابق مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے۔