پاک فوج نے سرحدی علاقے میں جاری آپریشن کے دوران اہم کارروائی کرتے ہوئے ارندو سیکٹر میں عسکریت پسندوں کے ایک مرکز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن “غضب للحق” کے تحت یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیز سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کارروائی کے دوران مسلح عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد متعدد جنگجو اسلحہ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران ارندو سیکٹر میں موجود عسکری مرکز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ 4 اور 5 مارچ کی درمیانی شب سرحدی پٹی میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں جن میں عسکریت پسندوں کی 41 پوسٹوں کو چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں چمن، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور نوشکی سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں کی گئیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ قندھار میں عسکریت پسندوں کے ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ اسلحہ کے ذخائر رکھنے والی تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن ابھی جاری ہے اور اہداف کے مکمل حصول تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، جبکہ زمینی اور فضائی سطح پر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
