بریکنگ نیوز

غضب للحق کی مار کھا کر طالبان سفید جھوٹ پھیلانے پر اتر آئے

مارچ 4, 2026 admin

آپریشن غضب لِلحق کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر مختلف دعوے اور جوابی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ افغان حکام کی جانب سے سول آبادی کو نقصان پہنچنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان اقوام متحدہ کا امدادی مشن برائے افغانستان کی ایک رپورٹ میں شہری نقصانات کا ذکر کیا گیا، تاہم پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور اس میں صرف عسکری تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔

فوجی ترجمان ادارے پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پریس بریفنگ میں کہا گیا کہ کارروائی پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی اور صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق مبینہ طور پر بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، بٹالین مراکز، اسلحہ ڈپو اور لاجسٹک بیسز کو ہدف بنایا گیا۔

دوسری جانب افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شہری نقصانات کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں عسکری اور غیر عسکری عناصر کی شناخت بعض اوقات پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس کے باعث متضاد دعوے سامنے آتے ہیں۔

ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل آزادانہ اور زمینی حقائق کی تصدیق ضروری ہے تاکہ صورتحال کی درست تصویر سامنے آ سکے۔ خطے میں کشیدگی کے تناظر میں شفاف تحقیقات اور ذمہ دارانہ بیانات کو امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔