چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے اور سرحد پار سے درپیش خطرات کے تدارک کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ بات جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے دورے کے موقع پر افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ دورے کے دوران انہوں نے مغربی سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
فوجی سربراہ کی آمد پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں ملکی سلامتی اور استحکام کی بنیاد ہیں۔
اس موقع پر اعلیٰ عسکری حکام نے سیکیورٹی ماحول، جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، آپریشن غضب لِلحق، پاک افغان سرحدی صورتحال اور بارڈر مینجمنٹ اقدامات پر بریفنگ دی۔
فیلڈ مارشل نے اگلے مورچوں پر تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات کی اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل مستعدی اور بلند حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے سرحدی جھڑپوں کے دوران افواج کی ثابت قدمی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرحد پار سے دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کا خاتمہ کیا جائے۔
فوجی قیادت نے پاک افغان سرحد پر تعینات فارمیشنز کی جنگی تیاری، باہمی ہم آہنگی اور عزم پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
