تہران: ایران کے اعلیٰ ترین منصب سے متعلق سوشل اور بین الاقوامی میڈیا پر مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ بعض پاکستانی نیوز آؤٹ لیٹس نے بھی انہی رپورٹس کے حوالے سے یہ خبر نشر کی ہے، تاہم ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور حکومتی نمائندوں کی جانب سے اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کا آئینی اختیار مجلس خبرگانِ رہبری کے پاس ہوتا ہے، جسے عام طور پر شوریٰ خبرگان کہا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں میں حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
3 مارچ کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے قم میں شوریٰ خبرگان کے ایک پرانے مرکزی دفتر کی عمارت پر میزائل حملے کی خبر دی گئی، جبکہ 2 مارچ کو تہران میں بھی اسی ادارے سے منسلک ایک دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے رپورٹ کیا تھا کہ قم میں حملے کے وقت عمارت میں اجلاس جاری تھا، تاہم بعد ازاں ایرانی میڈیا نے وضاحت کی کہ مذکورہ عمارت خالی تھی۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے ایک علیحدہ واقعے میں تصدیق کی تھی کہ حالیہ حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ جاں بحق ہونے والوں میں شامل تھیں، تاہم اس حوالے سے بھی تفصیلات محدود ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کی سرکاری سطح پر واضح اعلان سامنے نہیں آتا، اس نوعیت کی خبروں کو غیر مصدقہ اطلاعات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں خطے کی کشیدگی اور اطلاعاتی جنگ کے تناظر میں دعوؤں اور جوابی دعوؤں کا سلسلہ جاری ہے۔




