اشتہار کے لیے جگہ (728x90)

سانحہ گل پلازہ،جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اہم انکشافات

سانحہ گل پلازہ،جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اہم انکشافات

کراچی: گل پلازہ سانحے کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ شہر میں 2003ء سے الیکٹرک انسپکشن پر پابندی عائد رہی، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی پیش کیا گیا۔

الیکٹرک انسپکٹر پرویز احمد نے بیان دیا کہ محکمہ آبپاشی و توانائی کی جانب سے عمارتوں کی انسپکشن سے روک دیا گیا تھا۔ کمیشن کی جانب سے جب سوال کیا گیا کہ گل پلازہ کی آخری بار انسپکشن کب ہوئی، تو انہوں نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعیناتی کو صرف چھ ماہ ہوئے ہیں اور سابقہ ریکارڈ سے متعلق معلومات دستیاب نہیں۔

اجلاس کے دوران ڈی جی ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ادارہ محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہا ہے اور کے ایم سی کے ساتھ بطور بیک اپ معاونت فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی اطلاع 20 سے 25 منٹ کی تاخیر سے موصول ہوئی۔

ڈی جی ریسکیو کے مطابق ادارے کے پاس اسنارکل، ایئریل لیڈر اور ایکسیویٹر جیسی ہیوی مشینری موجود نہیں، جس کے باعث ملبے تلے دبے افراد کو بروقت نکالنے میں مشکلات پیش آئیں اور قیمتی وقت ضائع ہوا۔

جوڈیشل کمیشن نے متعلقہ حکام سے مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔