بریکنگ نیوز

ملنگی پوسٹ کا خودکش بمبار افغان شہری نکلا

فروری 20, 2026 admin

باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے سے متعلق حکام نے اہم تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق 16 فروری 2026 کو ضلع باجوڑ کی ملنگی پوسٹ کو نشانہ بنانے والے حملہ آور کی شناخت احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی ہے، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور ماضی میں افغان طالبان کی ایک خصوصی یونٹ سے وابستہ رہ چکا تھا۔ اس خودکش دھماکے میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں اور 2 شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان میں ہونے والے متعدد حملوں کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے ملنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خودکش حملے کا مبینہ بمبار بھی افغانستان میں تربیت یافتہ تھا۔ اسی طرح نومبر 2025 میں اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اور پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملوں میں ملوث عناصر کے بارے میں بھی افغانستان سے تعلق کے دعوے کیے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر اور وانا کیڈٹ کالج پر حملوں میں بھی افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی، جبکہ جنوبی وزیرستان میں گرفتار ایک خودکش بمبار کو افغان صوبہ قندھار کا رہائشی قرار دیا گیا تھا۔ مزید برآں بنوں کینٹ اور جعفر ایکسپریس پر حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق بھی سرحد پار روابط کے دعوے کیے گئے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرحد پار شدت پسند عناصر کو محفوظ ٹھکانے میسر ہوں تو اس سے خطے میں امن و استحکام کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔ دوسری جانب افغان حکام ماضی میں اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے دوطرفہ تعاون، مؤثر سرحدی نگرانی اور سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔