بریکنگ نیوز

کیا بھارت سے عالمی ایونٹس کی میزبانی چھین لی جائے گی؟

فروری 18, 2026 admin

دہلی/ میلبورن: پاک بھارت کشیدہ تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال نے اب بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ آسٹریلوی صحافی ڈینیئل بریٹگ کی ایک حالیہ رپورٹ نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (ICC) کے ایوانوں میں ہونے والی ہلچل کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت مستقبل کے بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی سے محروم ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، آئی سی سی نے بھارت میں شیڈول 2029 کی چیمپئنز ٹرافی اور 2031 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے متبادل میزبان کے طور پر آسٹریلیا پر غور شروع کر دیا ہے۔

"آسٹریلوی صحافی ڈینیئل بریٹگ نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی اور پاکستان کے ممکنہ بائیکاٹ کے باعث آئی سی سی اب ‘پلان بی’ پر کام کر رہی ہے، تاکہ مالی نقصانات اور لاجسٹک مسائل سے بچا جا سکے۔”

خبر میں بتایا گیا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی مداخلت اور وہاں کے حالات نے بھی آئی سی سی کو پریشان کر رکھا ہے۔ بھارت کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بڑے ٹورنامنٹس کے انعقاد میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

بھارت اگرچہ کرکٹ کا مالیاتی گڑھ (Financial Powerhouse) ہے، لیکن آئی سی سی کے لیے کسی بھی ایسے ایونٹ کا کامیاب ہونا ناممکن ہے جس میں پاک بھارت ٹکراؤ نہ ہو یا کسی ٹیم کی شرکت مشکوک ہو۔

اگرچہ پاکستانی میڈیا اس خبر کو ڈینیئل بریٹگ کے حوالے سے مسلسل رپورٹ کر رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ معاملہ ابھی "غور وفکر” کے مرحلے میں ہے۔

  • سیاسی دباؤ: بھارت کا پاکستان میں نہ کھیلنا اور ردِعمل میں پاکستان کا بھارت میں ایونٹس کے بائیکاٹ کا اشارہ آئی سی سی کے لیے ڈراونا خواب بن چکا ہے۔

  • آسٹریلیا کی تیاری: آسٹریلیا کو ایک محفوظ اور غیر جانبدار میزبان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں ٹائم زون بھی ایشیائی مارکیٹ کے لیے موزوں ثابت ہو سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ، دہلی کی ضد اور پڑوسیوں سے کشیدگی اسے کرکٹ کی میزبانی سے محروم کر سکتی ہے، جس کا براہ راست فائدہ آسٹریلیا کو پہنچنے کی توقع ہے۔