آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے اہم معرکے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے میچ سے قبل ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا جب دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے روایتی ہینڈ شیک نہیں کیا۔
کولمبو کے رنگیری دمبولا انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ٹاس کے موقع پر پاکستان کے کپتان آغا سلمان اور بھارت کے کپتان سوریا کمار یادو آمنے سامنے آئے، تاہم روایتی طور پر ہاتھ ملانے کی روایت اس بار بھی نظر انداز کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق بھارتی ٹیم نے اپنی "نو ہینڈ شیک” پالیسی برقرار رکھی، جس کا آغاز ایشیا کپ 2025 سے کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کی وجہ 2025 میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کو قرار دیا جاتا ہے، اور یہی رویہ اب ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران بھی جاری رکھا گیا ہے۔
گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بھارتی کپتان سے جب ہینڈ شیک کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ "ہینڈ شیک کے لیے 24 گھنٹے انتظار کریں، کل دیکھیں کیا ہوتا ہے”، تاہم میچ کے روز بھی ہاتھ نہ ملانے کا سلسلہ برقرار رہا۔
اس واقعے پر کرکٹ حلقوں میں افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رہنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے اسپرٹ آف کرکٹ متاثر ہوتی ہے۔ شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد نے بھی دونوں روایتی حریف ٹیموں کے درمیان مثبت کھیل اور کھیلوں کے جذبے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
