آزاد کشمیر میں نئے صدر کے انتخاب کا فیصلہ آج متوقع ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج شام ایوانِ صدر میں طلب کیا ہے، جس میں نئے صدر کے امیدوار پر مشاورت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ صدر کے انتخاب کے لیے ایوان میں سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، جو 27 ووٹ بنتے ہیں، اور یہ تعداد فی الوقت پیپلز پارٹی کے پاس موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی میں صدارت کے معاملے پر دھڑے بندی موجود ہے۔ بیرسٹر سلطان گروپ کا موقف ہے کہ صدارت ان کا حق ہے اور اس گروپ کے چوہدری رشید کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ دیگر ممکنہ امیدواروں میں اسپیکر چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یاسین، سردار محمد یعقوب خان اور سردار تنویر الیاس خان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سابق صدر سردار مسعود، مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق اور مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر راجا فاروق حیدر سمیت بعض غیر سیاسی شخصیات بھی صدارتی امیدواروں کے لیے لابنگ کر رہی ہیں۔ گزشتہ رات صدر زرداری اور وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کے درمیان نئے صدر کے نام پر مشاورت بھی ہوئی ہے۔
پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انہیں ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہے اور وہ اپنا صدر منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائے گی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ وہ بھی صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے اور ممکن ہے موجودہ اسمبلی نئے صدر کا انتخاب نہ کرے۔ آئینی طور پر الیکشن کمیشن 30 دن کے اندر صدارتی الیکشن کرانے کا پابند ہے، تاہم آزاد کشمیر میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہونے کے سبب تعیناتی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
