بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی مہم شروع، سیاسی جماعتوں میں سخت مقابلے کی فضا
بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے ملک بھر میں انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل امیدواروں نے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔
ڈھاکہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق انتخابی میدان میں تقریباً دو ہزار امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جن میں 51 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے 1,732 امیدوار شامل ہیں جبکہ 249 آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں موجود ہیں۔ انتخابی مہم کے اس مرحلے میں گھر گھر مہم، محلہ دورے، سڑکوں پر ریلیاں اور بڑے عوامی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی مہم ووٹنگ شروع ہونے سے 48 گھنٹے قبل ختم کر دی جائے گی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ 300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے 288، جماعت اسلامی کے 224، نیشنل سٹیزن پارٹی کے 32 اور جماعتی پارٹی کے 192 امیدوار میدان میں ہیں۔
یہ انتخابات اس لحاظ سے منفرد قرار دیے جا رہے ہیں کہ ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ اہم آئینی اصلاحات پر ہونے والے ریفرنڈم میں بھی حصہ لیں گے۔ ان اصلاحات کا مقصد جمہوری نظام کو مستحکم کرنا اور ریاستی اختیارات میں توازن کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔
انتخابی مہم کے آغاز کے موقع پر بی این پی، جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی سمیت بڑی سیاسی جماعتوں نے ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں بڑے جلسے اور ریلیاں نکالیں۔
انتخابی حکام کے مطابق یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اگست 2024 میں استعفیٰ اور ملک چھوڑنے کے بعد منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات ہیں۔ ان انتخابات کے لیے ملک بھر میں 127 ملین سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
