پاک بھارت کشیدگی کے بعد چینی ساختہ جدید لڑاکا طیارہ جے–10 سی عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سنگاپور میں منعقد ہونے والے ائیر شو کے دوران جے–10 سی نے شاندار فضائی مظاہرہ پیش کیا، جسے شائقین اور ماہرین کی جانب سے خوب سراہا گیا۔
چینی میڈیا کے مطابق یہ فضائی مظاہرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین جنوب مشرقی ایشیا میں دفاعی ساز و سامان کی برآمدات میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ائیر شو کے دوران چینی فضائیہ کی ایروبیٹکس ٹیم کے چھ جے–10 سی طیاروں نے مشترکہ جبکہ دو طیاروں نے انفرادی ایروبیٹک کرتب دکھائے۔

جے–10 سی ایک 4.5 جنریشن، سنگل انجن اور ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جسے چین کی چینگدو ائیرکرافٹ کارپوریشن نے تیار کیا ہے۔ یہ طیارہ جدید انجن، ایکٹو الیکٹرانکلی اسکینڈ ایریے ریڈار اور جدید ائیر ٹو ائیر میزائل صلاحیتوں سے لیس ہے، جن میں پی ایل–10 اور پی ایل–15 میزائل شامل ہیں۔
چینی ذرائع کے مطابق جے–10 سی عالمی سطح پر اس وقت نمایاں ہوا جب گزشتہ سال مئی میں پاک فضائیہ نے سرحدی کشیدگی کے دوران اس طیارے کو عملی کارروائی میں استعمال کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں بھارت کے زیرِ استعمال جدید لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس وقت چین کے علاوہ پاکستان واحد ملک ہے جو جے–10 سی طیارے استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان کے پاس ان طیاروں کے برآمدی ماڈلز کے ساتھ بڑی تعداد میں جدید ائیر ٹو ائیر میزائل بھی موجود ہیں۔
دفاعی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت جے–10 سی کی صلاحیتوں کے عملی مظاہرے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس کے بعد عالمی دفاعی منڈی میں اس طیارے میں دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے۔
