قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا، جس کے تحت عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خرید لیے۔ نجکاری کمیشن کی جانب سے منعقدہ تقریب میں باضابطہ طور پر نتائج کا اعلان کیا گیا۔
پی آئی اے کی فروخت کے لیے بولی کے تین مراحل منعقد ہوئے، جن میں عارف حبیب کنسورشیم اور لکی کنسورشیم کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ ابتدائی مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب جبکہ لکی کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی۔
دوسرے مرحلے میں بولی 121 ارب روپے تک پہنچی، جس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری کے عمل کو ملکی معیشت کے لیے اہم قرار دیا۔
تیسرے اور حتمی مرحلے میں بولی 135 ارب روپے تک جا پہنچی، جس پر لکی کنسورشیم نے مقابلے سے دستبردار ہوتے ہوئے عارف حبیب کنسورشیم کو کامیابی پر مبارک باد دی۔
نجکاری کمیشن کے مشیر محمد علی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور حکومت چاہتی ہے کہ قومی ایئر لائن ایک بار پھر ماضی کی طرح مستحکم اور منافع بخش ادارہ بنے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد تک شیئرز کی نجکاری کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ بعض سرمایہ کار 75 فیصد شیئرز خریدنے کے خواہاں تھے۔ ان کے مطابق باقی 25 فیصد شیئرز کے معاملات آئندہ 90 دن میں طے کیے جا سکتے ہیں۔
مشیر نجکاری کا کہنا تھا کہ ادائیگی دو تہائی ابتدائی مرحلے میں اور ایک تہائی بعد میں کی جا سکے گی، جبکہ کامیاب بولی دہندہ کو مزید دو پارٹنرز شامل کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بولی سے حاصل ہونے والی رقم کا 92 اعشاریہ 5 فیصد حصہ پی آئی اے کی بہتری، تنظیمِ نو اور آپریشنل اصلاحات پر خرچ کیا جائے گا۔
