سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر کی پاکستان واپسی سے متعلق معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستانی حکام کی جانب سے مطلوبہ قانونی دستاویزات برطانوی حکومت کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق برطانوی حکام کو بھیجی گئی فائلوں میں شہزاد اکبر کے خلاف درج مختلف مقدمات، جاری عدالتی کارروائیوں اور قانونی حیثیت سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ شہزاد اکبر کے خلاف وفاقی پولیس اسلام آباد میں مجموعی طور پر تین مقدمات درج ہیں، جن میں دو تھانہ سیکرٹریٹ جبکہ ایک تھانہ کوہسار میں درج ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، وفاقی تحقیقاتی ادارے اور قومی احتساب بیورو میں درج مقدمات کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات میں مقامی عدالتوں کی جانب سے شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دیے جانے اور بعض مقدمات میں سزا یافتہ ہونے سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے یہ معاملہ برطانوی حکام کے سامنے کیس ٹو کیس بنیاد پر اٹھایا ہے، اور ابتدائی مرحلے میں شہزاد اکبر اور عادل راجہ سے متعلق کیسز ارسال کیے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ آئندہ مرحلے میں دیگر مطلوب افراد کے کیسز بھی اسی طریقہ کار کے تحت متعلقہ ممالک کو بھجوانے پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق ان کی واپسی یا دیگر کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
