بریکنگ نیوز

راولپنڈی جانیوالی گاڑی آزاد پتن ڈیم میں جا گری،6 مسافر جاں بحق

دسمبر 11, 2025 admin
راولپنڈی جانیوالی گاڑی آزاد پتن ڈیم میں جا گری،6 مسافر جاں بحق

ہجیرہ،پلندری (نمائندہ خصوصی) ہجیرہ سوگ میں ڈوب گیا ہجیرہ سے راولپنڈی جانے والی ٹویوٹا آئی ایس آزاد پتن حادثہ کا شکار ہو کر پتن ڈیم میں جا گری۔ متعدد افراد جاں بحق ہو گئے چار افراد کے زندگی بچ گئے جو شدید زخمی ہیں جبکہ ہجیرہ کیری کوٹ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر محمد نعیم اور اس کی والدہ فاطمہ دریا کی نذر ہو گئے جبکہ ساکن بھانینتی کے عدیل عارف اور تتری نوٹ کے رہائشی عمر حیات بھی حادثہ کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گئے حادثہ کا شکار ہونے والی گاڑی نمبر 7599 جس کو بھانتینی کے رہائشی محمد ادریس چلا رہے تھے ، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گاڑی میں تقریباً 15سے17لوگ سوار تھےجو ہجیرہ کھائگلہ اور راولاکوٹ سمیت مختلف مقامات سے سوار ہوئے جن کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے امدادی ٹیموں کا سرچ آپریشن جاری آخری اطلاع کے مطابق تین افراد کی ڈیڈ باڈیز ریکور کر لی گی ہیں۔زرائع کے مطابق راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ میں آزاد پتن گراری پل کے قریب مسافر وین دریا میں جا گری، جس کے باعث 6 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔ ۔ کرین کی مدد سے گاڑی کو نکالا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہجیرہ آزاد کشمیر سے راولپنڈی جانے والی ٹیوٹا ہائی ایس 7599 ادریس نامی ڈرائیور چلا رہا تھا۔ ہجیرہ سے کنڈیکڑ کے ہمراہ پانچ مسافروں کو سوار کرکے راولپنڈی کی جانب آرہی تھی کہ راستے میں 9 دیگر مسافر وین میں سوار ہوئے کہ آزاد پتن گراری پل کی قریب پہنچی تو گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہوکر سڑک کے ساتھ گہرائی میں بہتے ہوئے دریا میں جا گری۔عینی شاہدین کی مطابق دریا میں گاڑی کا بمشکل چھت کا ایک حصہ دکھائی دے رہا ہے جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو 1122 کا عملہ موقع پر پہنچا اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے حادثہ کے فوراً بعد ریسکیو 1122 پلندری اور راولاکوٹ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ریسکیو اہلکاروں نے چار افراد کو زندہ بچا لیا جبکہ پانچ افراد کی نعشیں نکالی گئیں۔جاں بحق افراد میں انٹر کالج دیوی گلی کے پروفیسر محمد نعیم اور ان کی والدہ بھی شامل ہیں۔حادثے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم پولیس کی تفتیش جاری ہے۔ حادثے پر مولانا سعید یوسف سمیت سیاسی و سماجی رہنماؤں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔چار اضلاع کو ملانے والی یہ اہم ڈیفنس روڈ لوگوں کیلئے سفر آسان بنانے کیلئے تعمیر کی گئی تھی، مگر سیفٹی وال یا بیریئر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں حادثات میں خوفناک اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ روڈ اب "موت کی گھاٹی” بنتی جا رہی ہے۔حادثہ اس بات کی بھی سنگین نشاندہی کرتا ہے کہ آزادپتن سمیت علاقے کے ریسکیو یونٹس میں ماہر غوطہ خوروں کی شدید کمی ہے۔ ہر بڑے حادثے پر ماہر غوطہ خور مظفرآباد یا پرائیویٹ ذرائع سے بلائے جاتے ہیں، جن کے پہنچنے تک کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ریسکیو 1122 کے اہلکار نامساعد حالات میں جانیں بچانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں، مگر غوطہ خوری کی ٹریننگ نہ ہونا ایک بڑا انتظامی خلا ءہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آزادپتن، پلندری اور راولاکوٹ کے ریسکیو یونٹس میں غوطہ خور تعینات کر دیے جائیں یا موجود اہلکاروں کو مناسب ٹریننگ فراہم کر دی جائے تو درجنوں انسانوں کی جانیں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔