اگرافغانستان میں کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا ہدف صرف دہشتگرد ہوں گے
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ اگر افغانستان میں کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا ہدف صرف دہشتگردa ہوں گے، افغان عوام نہیں۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا، ہماری پالیسی صرف دہشتگردی کے خاتمے پر مبنی ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق افغانستان کے ساتھ متعدد بار مذاکرات ہوئے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ پاکستان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ حملوں میں افغان دہشتگرد ملوث تھے اور اگر پاکستان کوئی ایکشن کرے گا تو کھلے عام کرے گا، چھپ کر نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ رواں سال 67 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، جن میں 1873 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جن میں 136 افغان بھی شامل ہیں۔
4 نومبر سے اب تک 4910 آپریشنز کے دوران 206 دہشتگرد مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ خوارج افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اسلحے کا استعمال کر رہے ہیں۔ وانا کیڈٹ کالج پر حملے میں بھی یہی اسلحہ استعمال ہوا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بارڈر مینجمنٹ پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ پاک افغان سرحد دشوار گزار ہے، خیبر پختونخوا میں سرحد 1229 کلومیٹر طویل ہے اور بعض جگہوں پر پوسٹوں کا درمیانی فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر فینس تبھی مؤثر ہوتی ہے جب اسے آبزرویشن اور فائر سپورٹ حاصل ہو، جبکہ بارڈر کے دونوں اطراف بکھرے ہوئے دیہات آمدورفت کے کنٹرول کو مشکل بناتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن دہشتگردوں کی دراندازی میں افغان طالبان کی سہولت کاری شامل ہے۔ افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کے مراکز، قیادت اور فنڈنگ موجود ہے اور یہ سب پاکستان کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تمام شواہد افغان حکام کے سامنے رکھ دیے ہیں اور دوحہ معاہدے پر پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغان طالبان دہشتگردوں کی معاونت ختم کریں۔
فیض حمید سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کورٹ مارشل کا معاملہ قانونی عمل کے تحت زیرسماعت ہے اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
