سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد مجرم قرار-بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل-1 نے معزول و مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور دو اعلیٰ عہدیدار ساتھیوں کے خلاف گزشتہ سال جولائی میں ہونے والی بغاوت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں کارروائی کی ہے۔
سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس چودھری عبداللہ المامون کو بھی شریک جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسد الزماں تاحال مفرور ہیں جبکہ مامون زیر حراست ہیں اور اعتراف جرم کے بعد ریاستی گواہ بن چکے ہیں۔ یہ ٹریبونل کے قیام کے بعد ریاستی گواہ بننے والے پہلے ملزم ہیں۔
کیس کا حتمی فیصلہ جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں تین رکنی ٹریبونل نے 453 صفحات پر مشتمل فیصلے کے بعد سنایا۔ ٹریبونل نے شیخ حسینہ واجد کو بھارت سے واپس آکر ٹرائل میں پیش ہونے کی ہدایت دی تھی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔
استغاثہ نے ٹریبونل سے تینوں مجرمان کے اثاثے ضبط کر کے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
