جوڈیشل کمپلیکس حملہ:سہولت کاراور ہینڈلر گرفتار،مزید سراغ ملنے کاامکان
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں جوڈیشل کمپلیکس پر ہونے والے خودکش حملے کے سہولت کار اور ہینڈلر کو سیکیورٹی اداروں نے کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں حملے کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے برق رفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے 40 گھنٹوں کے اندر اندر سہولت کار اور ہینڈلر کو حراست میں لیا۔
سہولت کار گزشتہ ایک ماہ سے راولپنڈی کے علاقے ڈھوک پراچہ میں مقیم تھا، جبکہ ہینڈلر کو خیبرپختونخوا کے ایک علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ دونوں کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی ایک ماہ قبل افغانستان میں کی گئی تھی، اور بمبار کو بارڈر کے راستے پاکستان داخل کیا گیا۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حملے سے قبل سہولت کار اور خودکش بمبار نے جوڈیشل کمپلیکس کی کم از کم تین مرتبہ ریکی کی تاکہ داخلی راستوں، چیک پوسٹس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا جائزہ لیا جا سکے۔
پولیس کے مطابق گرفتار سہولت کار نے ابتدائی تفتیش میں تسلیم کیا ہے کہ وہ بمبار کو رہائش، سواری اور نقل و حرکت میں مدد فراہم کرتا رہا۔
حساس ادارے راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزید چھاپے مار رہے ہیں تاکہ حملے میں ملوث باقی نیٹ ورک کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا۔ ان کے مطابق بمبار نہ صرف پاکستانی زبان سے ناواقف تھا بلکہ پاکستانی کرنسی کے نوٹوں کو پہچاننے میں بھی دشواری محسوس کرتا تھا۔
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور اسلام آباد پہنچنے کے بعد مختلف موٹر سائیکلوں پر سفر کرتا رہا تاکہ شناخت سے بچ سکے۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق حملہ آور اور اس کے سہولت کار نے حملے کے لیے کمزور سیکیورٹی والے دن کا انتخاب کیا۔
حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہلکار، وکلا اور عام شہری شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے پیچھے ممکنہ طور پر ایک کالعدم تنظیم کے عناصر ملوث ہیں جن کے رابطے سرحد پار موجود شدت پسند گروہوں سے بھی جوڑے جا رہے ہیں۔
اداروں نے حملے میں استعمال ہونے والے مواد، موٹر سائیکل اور دیگر شواہد کو قبضے میں لے کر فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ حملے کا مقصد دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیلانا اور عدالتی نظام کو نشانہ بنانا تھا۔
