پاکستان اور افغانستان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار
اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان دوحہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے بین الاقوامی، علاقائی اور دوطرفہ وعدوں کی تکمیل میں اب تک ناکام رہے ہیں۔
عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ خیرسگالی کے جذبے کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور ان کے لیے ایک پرامن مستقبل کا خواہاں ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان طالبان حکومت کے کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
عطاء اللّٰہ تارڑ نے مزید بتایا کہ پاکستان نے مذاکرات کے دوران ترکیہ اور قطر کی ثالثی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
