نیو یارک میں اسلامو فوبیا کی کوئی جگہ نہیں،ظہران ممدانی۔نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ آج کے الیکشن نے ثابت کر دیا کہ امید اب بھی زندہ ہے، خوف کی شکست اور امید کی جیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، یہ شہر عوام کا ہے اور جمہوریت بھی عوام کی ہے۔
ظہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک کے عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا ہے، ٹیکسی ڈرائیورز، نرسنگ اور ورکنگ کلاس کا شکریہ، ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد رضاکاروں نے ہماری مہم میں حصہ لیا، یہ کامیابی سب کی محنت کا نتیجہ ہے۔
نیو یارک میں اسلامو فوبیا کی کوئی گنجائش نہیں، ظہران ممدانی کا میئر کا الیکشن جیتنے کے بعد پہلا خطاب#نیویارک #زوہران_ممدانی #نیو_یارک_میئر #مہاجرین #امریکہ #امریکی_سیاست #نیو_یارک_الیکشن #مہاجرین_کے_حقوق #امریکی_شہر #عالمی_خبریں #تبدیلی #NewYork #ZorahanMamdani #Refugees pic.twitter.com/igZr5Flsjr
— abs 24news (@abs24news_) November 5, 2025
نو منتخب میئر نے کہا کہ ہم عوام کے لیے کام کریں گے کیونکہ ہم بھی انہی میں سے ہیں، سب کو سکیورٹی اور انصاف فراہم کیا جائے گا۔ نیویارک میں اسلامو فوبیا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک مسلمان اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہوں، 2026 سے ہم ایک ایسی شہری حکومت قائم کریں گے جو سب کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے ظہران ممدانی نے کہا، “ٹرمپ! آواز اونچی کرو، ہم تمہیں سن رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ہم مزدوروں کے حقوق کے لیے یونینز کے ساتھ کھڑے ہوں گے، نیویارک سٹی کو تارکینِ وطن نے مضبوط کیا ہے، اب بدعنوانی کے اس کلچر کا خاتمہ کریں گے جس میں ارب پتی ٹیکس سے بچ جاتے ہیں۔
