افغان طالبان دہشتگردی کنٹرول کرائیں یا سزا بھگتیں۔افغان طالبان کو دہشت گردی کے خاتمے اور سرحدی تشدد کے کنٹرول کے حوالے سے واضح ہدایات دی گئی ہیں
راولپنڈی، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ہماری مسلح افواج ہیں اور یہ ذمہ داری کابل یا کسی اور کو منتقل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے استنبول کانفرنس اور بین الاقوامی فورمز میں واضح موقف اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ افغان طالبان کو دہشت گردی کے خاتمے اور سرحدی تشدد کے کنٹرول کے حوالے سے واضح ہدایات دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے سرحدی سلامتی اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے فعال ہیں، اور طالبان کے ساتھ روایتی خوشامد یا خوش آمدید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جنرل چوہدری نے واضح کیا کہ وہ گروہ جو ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے اور ان کے ساتھ بہیمانہ سلوک کرتے ہیں، اُن کے ساتھ مذاکرات کیسے ممکن ہیں، جب تک وہ واضح طور پر دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کرتے۔
ڈرون آپریشنز کے حوالے سے استفسار پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا امریکہ یا کسی اور کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہے جس کے نتیجے میں ڈرون پاکستان سے افغانستان میں جاتے ہوں، اور وزارت اطلاعات نے اس بارے میں واضح وضاحت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی طرف سے ڈرونز کے حوالے سے کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے طالبان رجیم پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے دہشت گردی کی سہولت کاری کرتے ہیں اور افغانستان میں موجود گروہ، ٹی ٹی پی اور مقامی وار لارڈز کا گٹھ جوڑ نشہ آور فصلوں، اسمگلنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے پیسہ کماتا ہے۔ اُن کے مطابق ایکڑ پر افیون کی پیداوار سے 18 تا 25 لاکھ روپے تک کی آمدنی ہوتی ہے جو اس نیٹ ورک کو طاقت ور بناتی ہے۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس سال اب تک 62,113 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے جن میں 1,667 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان آپریشنز کے دوران مسلح افواج کے 582 افسر اور جوان شہید ہوئے جبکہ مارے گئے دہشت گردوں میں 128 افراد افغان شہری بتائے گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کارروائیاں زیادہ ہورہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ٹھوس نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
سرحدی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرحد تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل ہے جس میں پہاڑ اور دریاؤں سمیت مشکل علاقوں کا سلسلہ ہے، لہٰذا ہر جگہ چوکی بنانا ممکن نہیں۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ افغان سرحدی گارڈز بعض اوقات دہشت گردوں کو سرحد پار کرانے میں معاونت کرتے اور ہماری چوکیوں پر فائرنگ کرتے ہیں، جس کا جواب پاکستانی افواج دیتی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ فوج داخلی شعور یا سیاسی معاملات میں دخل انداز نہیں ہوتی، اور فوجی قیادت اپنی بات واضح انداز میں رکھتی ہے۔ صوبائی یا وفاقی سطح پر جو بھی سیاسی فیصلے ہوں ان کا اطلاق حکومتی فورمز میں طے کیا جاتا ہے، جبکہ فوج کا کام ملکی سلامتی کو برقرار رکھنا ہے۔
استنبول کانفرنس کے متعلق اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے: افغان زمین کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، بیرونی مداخلت قبول نہیں اور سرزمین کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جن لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے دوران پاکستان چھوڑ کر افغانستان پناہ لی تھی، اُن کے حوالے کا مطالبہ بھی سامنے رکھا گیا ہے تاکہ وہ قانون کے مطابق بھیجے جائیں اور انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔
اختتاماً، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کے علماء، میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے یک زبان ہو کر قومی مفاد میں موقف اختیار کرنے کی اپیل کی تاکہ دشمن کی سازشوں اور دہشت گردی کے خلاف واضح اور یکساں حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
