صوبائی حکومت نیازی لاءکے تحت نہیں چل سکتی،خواجہ آصف
اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ "نیازی لاء” اب نہیں چلے گا، ہر چیز پر یہ قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے معاملات میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات قومی سلامتی کے منافی اور مایوس کن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت "نیازی لاء” کے تحت نہیں چل سکتی، پاکستان کسی فردِ واحد کی ملکیت نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ اگر وزیراعلیٰ صرف ایک شخص کے اشاروں پر چلنا چاہتے ہیں تو یہ طرزِ عمل حب الوطنی نہیں بلکہ ملکی مفاد کے خلاف ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے، اس جنگ میں کسی شخصیت کے تابع سوچنے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اپنی سوچ کی تنگی کے باعث پاکستان کے مفاد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور بلاواسطہ طور پر دہشت گردی کی معاونت کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دراندازی کا مکمل خاتمہ لازمی ہے، ورنہ کوئی معاہدہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔ افغان سرزمین سے دہشت گردوں کی سرگرمیاں جاری رہیں تو تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے۔
انہوں نے بتایا کہ 6 نومبر کو استنبول میں ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوگا جس میں سیزفائر کی نگرانی اور معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی جائے گی۔
