استنبول مذاکرات ناکام ہوگئے،وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا بیان طالبان افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں ،مذاکرات کے دوران الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کا سہارا لیا۔
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ہونے والے چار روزہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ بات چیت میں قابل عمل حل نہیں نکالا جا سکا۔
یہ بھی پڑھیں:۔ محسن نقوی کی ایران میں افغان نائب وزیر داخلہ سے ملاقات
عطا تارڑ نے کہا کہ مذاکرات کا مرکزی ایجنڈا پاکستان پر افغان سرزمین سے حملوں کو روکوانا تھا، تاہم افغان طالبان نے شواہد کے باوجود اس کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور مذاکرات کے دوران الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کا سہارا لیا۔
وفاقی وزیر نے استنبول مذاکرات میں سہولت کاری کرنے پر قطر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے طالبان قیادت کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے معاملات کو بطور لیوریج استعمال کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔
عطا تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور افغان عوام کے امن و خوشحالی کے لیے پاکستان نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق طالبان کے مؤقف میں بار بار تبدیلی کے باعث مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔
