چین میں خودکار ٹیکنالوجی کی رفتار حیران کن حد تک بڑھ گئی-بیجنگ: چین میں خودکار ٹیکنالوجی کی رفتار حیران کن حد تک بڑھ گئی ہے۔ صرف شینزن شہر میں اس وقت 10 ہزار خودکار (ڈرائیور کے بغیر) ڈیلیوری وینز روزانہ مختلف مقامات پر سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ وینز جدید مصنوعی ذہانت (AI) اور سینسر ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جو نہ صرف خود راستہ طے کرتی ہیں بلکہ ٹریفک کے بہاؤ کے مطابق اپنی رفتار خود ایڈجسٹ کر لیتی ہیں۔
چین میں خودکار ٹیکنالوجی کی رفتار حیران کن حد تک تیز ہو چکی ہے۔ صرف شینزن شہر میں اس وقت 10,000 خودکار (ڈرائیور کے بغیر) ڈیلیوری وینز سڑکوں پر چل رہی ہیں، یہ وینز نہ صرف سستی تیار ہوتی ہیں بلکہ 500 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ pic.twitter.com/mWAjVquU1K
— Harmeet Singh (@HarmeetSinghPk) October 23, 2025
یہ خودکار وینز کم لاگت میں تیار کی جاتی ہیں اور 500 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے لاجسٹک لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ شینزن کی یہ پیشرفت چین میں خودکار نقل و حمل کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جو مستقبل میں دنیا بھر کے ٹرانسپورٹ اور ڈیلیوری نظاموں کو بدل سکتی ہے۔
