اسرائیل کا 120 میزائل حملوں کے بعد جنگ بندی معاہدہ دوبارہ نافذ
غزہ: اسرائیل نے غزہ میں فضائی کارروائیوں کے بعد جنگ بندی معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران مختلف مقامات پر 120 میزائل داغے گئے، جن میں حماس کے مبینہ اہداف سمیت شہری آبادیاں بھی متاثر ہوئیں۔
فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ فضائی کارروائیوں میں درجنوں افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جب کہ جنگ بندی کے بعد سے مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 97 تک پہنچ گئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائیاں حماس کی جانب سے ان کے اہلکاروں پر مبینہ حملوں کے جواب میں کی گئیں، تاہم حماس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے خاتمے کے جواز تلاش کر رہا ہے۔
حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اہداف پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد غزہ میں جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب حماس رہنما خلیل الحیہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد قاہرہ پہنچا ہے، جو مصری حکام کے ساتھ شرم الشیخ میں طے پانے والے سیز فائر معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق بات چیت کرے گا۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر، اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی رواں ہفتے اسرائیل پہنچیں گے تاکہ جنگ بندی فریم ورک سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہماری جنگ بندی برقرار ہے، اور اس پر کسی بھی خلاف ورزی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اس بات سے آگاہ نہیں کہ اسرائیلی حملے جائز ہیں یا نہیں، تاہم اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
