ایف سی کی کارروائی،خودکش بمبار گرفتار،اہم انکشافات
جنوبی وزیرستان: فرنٹیئر کور (ایف سی) کی کارروائی کے دوران ایک خودکش بمبار کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ممکنہ روابط سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت نعمت اللہ ولد موسیٰ جان بطور ہوئی ہے اور وہ افغانستان کے صوبہ قندھار کا رہائشی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے بتایا کہ اسے اور اس جیسے دیگر نوجوانوں کو عسکری سرگرمیوں کے لیے بھرتی اور تربیت دیا جاتا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم قندھار کے ایک مدرسے سے تعلق رکھتا تھا اور وہ دینی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ اس نے اعترافی بیان میں کہا کہ کچھ افراد نے انہیں پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے کی تربیت دی اور گروپ بندی کے ذریعے سرحد عبور کر کے کارروائیوں میں مصروف رہنے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ ملزم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گروپ میں نوجوانوں کی عمر کم تھی اور انہیں منطقی و اخلاقی پیچیدگیوں کے باوجود عسکری کارروائیوں میں شامل کیا جاتا تھا۔
ملزم نے اعتراف کیا کہ تربیتی دورانیے مختلف تھے اور کچھ کو ابتدائی سطح کی تربیت دی گئی۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ملزم کے بیانات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ نوجوانوں کی ذہن سازی اور بھرتی کا عمل جاری رہا، اور یہ سلسلہ سرحدی علاقوں میں عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے منظم انداز میں کیا جاتا رہا ہے۔
سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے اور اس کے نیٹ ورک کے ممکنہ رابطوں اور مدد فراہم کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔ متعلقہ ادارے علاقے میں حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے انکشافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوانوں کو عسکری کارروائیوں میں ملوث کرنے کی کوششیں قابلِ تشویش ہیں، اور وہ والدین و سماجی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں کے بارے میں محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک معلومات کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
