اسرائیلی قید سے رہا ئی،سینیٹر مشتاق احمدکب پاکستان پہنچیں گے
اسلام آباد (اسپیشل رپورٹر) — جماعتِ اسلامی پاکستان کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو اسرائیلی حراست سے رہا کر دیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ان کی رہائی کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مشتاق احمد کو 9 اکتوبر کو پاکستان واپس لایا جائے گا۔
I am pleased to confirm that former Senator Mushtaq has been released and is now safely with Pakistan Embassy in Amman. He is in good health and high spirits. The Embassy stands ready to facilitate his return to Pakistan, in accordance with his wishes and convenience.
Am pleased… pic.twitter.com/IbZQKvzWyb— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) October 7, 2025
ذرائع کے مطابق مشتاق احمد خان کو اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ گلوبل صمود فلوٹیلا (Global Solidarity Flotilla) کے ہمراہ غزہ کے مظلوم عوام کے لیے امدادی سامان لے جا رہے تھے۔ اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں داخل ہوتے ہی فلوٹیلا پر دھاوا بول دیا اور درجنوں بین الاقوامی امدادی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
پاکستان نے اس گرفتاری کے بعد فوری طور پر اسرائیلی حکام، اردن، ترکی اور اقوامِ متحدہ کے نمائندوں سے سفارتی رابطے کیے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق، پاکستانی سفارتی مشنز نے مسلسل کوششوں سے اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں مشتاق احمد خان اور دیگر غیر ملکی رضاکاروں کی رہائی ممکن ہوئی۔
مشتاق احمد خان صاحب اسرائیلی جیل سے رہا ہو کر اردن پہنچ گئے۔
ان کا پیغام ہے کہ اڈیالہ سے لے کر اسرائیلی جیل تک مزاحمت جاری رہے گی
(ایڈمن) pic.twitter.com/gJi6zXFUTZ
— Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان (@SenatorMushtaq) October 7, 2025
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "مشتاق احمد خان کی رہائی پاکستان کی مؤثر سفارتی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ ادارے ان کی جلد واپسی کے لیے تمام انتظامات کر رہے ہیں۔”
اس موقع پر اسحاق ڈار نے مشتاق احمد سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کے حوصلے اور جرات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد جیسے لوگ پاکستان کا فخر ہیں، جنہوں نے فلسطینی عوام کے لیے آواز اٹھائی۔
رہائی کے بعد مشتاق احمد خان نے اردن پہنچ کر اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی قید کے دوران پیش آنے والے حالات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم پر بدترین جسمانی و ذہنی تشدد کیا گیا۔ ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پیروں میں زنجیریں ڈالی گئیں، آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور ہم پر کتے چھوڑے گئے۔ ہمیں کئی دن تک کھانے پینے اور ادویات سے محروم رکھا گیا۔”
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی جیل میں انہوں نے اور ان کے دیگر ساتھیوں نے قیدیوں کے حقوق کے لیے تین دن کی بھوک ہڑتال کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے قید میں بھی اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔ ہمارا مشن انسانیت کی خدمت اور غزہ کے عوام تک امداد پہنچانا تھا، جو اب بھی جاری رہے گا۔”
مشتاق احمد خان نے عزم ظاہر کیا کہ وہ پاکستان واپس پہنچ کر فلوٹیلا کے سفر، گرفتاری اور اسرائیلی جیل میں قید کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات کی تفصیلات قوم کے سامنے رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم بار بار جائیں گے، ناکہ بندی توڑیں گے، غزہ کو بچائیں گے، اور جو مظالم کے ذمہ دار ہیں، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔”
ذرائع کے مطابق، مشتاق احمد خان اس وقت اردن میں موجود ہیں اور پاکستانی سفارت خانہ ان کی واپسی کے تمام انتظامات کر رہا ہے۔ توقع ہے کہ وہ 9 اکتوبر کو خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد پہنچیں گے جہاں ان کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں درجنوں ممالک کے کارکن شامل تھے جن کا مقصد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے امداد پہنچانا تھا۔ اب تک مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 450 ارکان میں سے 170 کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔
پاکستانی حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مشتاق احمد کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی فلسطین کے لیے پاکستان کے عوام کی وابستگی کا ثبوت ہے۔
مشتاق احمد خان نے اپنے پیغام میں کہا، "ہم مسجدِ اقصیٰ کی آزادی اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یہ قید ہماری عزم کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کر گئی ہے۔”
