ٹرمپ اعلان کے بعدغزہ میں امیدکی لہر،مگراسرائیلی حملے برقرار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کے اعلان کے بعد غزہ کے عوام میں امید اور خوشی کی فضا پیدا ہوئی ہے، تاہم اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں۔ تازہ فضائی کارروائیوں میں مزید 66 فلسطینی شہید ہو گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
المواسی، نصیرات اور تُفّاح کے رہائشی علاقوں میں بمباری کے باعث سیکڑوں افراد زخمی ہوئے، جب کہ اسپتالوں کی تباہی اور ادویات و خوراک کی شدید قلت نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بے گھر فلسطینی ملبے پر خیمے لگا کر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:۔ صمود فلوٹیلا کے 137 کارکن رہائی کے بعد استنبول پہنچ گئے
حماس کی جانب سے امن منصوبے پر مشروط آمادگی کے بعد عالمی سطح پر اس اقدام کا خیرمقدم کیا گیا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسے "امن کے قیام کا موقع” قرار دیا، جب کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بھی حمایت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، اسرائیل نے ٹرمپ کے مطالبے کے باوجود بمباری نہیں روکی۔ المواسی، جو اسرائیلی فوج کے مطابق "محفوظ زون” تھا، وہاں بھی حملوں میں دو بچے شہید اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:۔ ٹرمپ نے غزہ کے امن کیلئے جو 20 نکات پیش کئے وہ ہمارے نہیں
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حماس "دائمی امن” کے لیے تیار ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ان کا منصوبہ حماس کے لیے ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ قطر یونیورسٹی کے پروفیسر عدنان حیجنہ کے مطابق تنظیم اپنے یرغمالیوں کو آخری مذاکراتی مرحلے تک محفوظ رکھے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ مذاکرات ممکنہ طور پر قاہرہ میں ہوں گے جہاں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی موجودگی میں فریقین کے درمیان براہِ راست بات چیت کا امکان ہے۔ سیکورٹی تجزیہ کار راشد المہنادی کے مطابق، امریکا ہی واحد فریق ہے جو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر عملی دباؤ ڈال سکتا ہے تاکہ امن منصوبے کے ابتدائی نکات پر پیش رفت ہو سکے۔
