سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ بھارت کی حالیہ دھمکیاں صرف گیدڑ بھپکیاں ہیں، پاکستان کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے اگر کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ’’اگر بھارت کی طبیعت دوبارہ ٹھیک کرنی پڑی تو کر دیں گے، اب آپریشن سندور جیسی حرکت کی کوشش کی تو سارے شکوے دور کر دیے جائیں گے‘‘۔ ان کے مطابق پاکستان جانتا ہے کہ بھارت کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے اور اس بار ’’پہلے سے بہتر علاج‘‘ کیا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع نے بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی باتوں پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے بعد بھارت نے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا ہے، لیکن پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ بھارت کون سا اسلحہ خرید رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں نہ کوئی فکر ہے نہ تشویش، ہماری فورسز ہر وقت تیار ہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حل کا کریڈٹ سیاسی قیادت کو جاتا ہے اور یہ معاملہ اس سطح تک نہیں پہنچنا چاہیے تھا۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ کشمیری عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ فلسطین اور کشمیر پر پاکستان کا موقف واضح اور اٹل ہے۔ اسرائیل سے متعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، غزہ میں ظلم و بربریت فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:۔ بھارت اپنے نقصان دہ جنگی اثاثوں کی تباہی بھول بیٹھا ہے
ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ انتہائی اہم نوعیت کا ہے، جو معاشی اور اسٹریٹیجک دونوں پہلو رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پسنی پورٹ اور دیگر منصوبوں کے لیے متعدد بین الاقوامی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ پاکستان اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرے گا۔ ذرائع کے مطابق موجودہ صدی ’’معدنیات کی صدی‘‘ ہے اور عالمی کمپنیاں پاکستان میں دھاتوں اور معدنی وسائل کی تلاش میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:۔ آزادکشمیر،معمولاتِ زندگی بحال،موبائل سروسز اور بازار کھل گئے
بلوچستان میں اسمگلنگ پر قابو پانے کے حوالے سے ذرائع نے کہا کہ اب ڈیزل قانونی طریقے سے امپورٹ ہو رہا ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ کسی دہشت گرد کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جس پر افغان حکومت کو کئی بار دہشت گردوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت سیکیورٹی فورسز نے 15 ستمبر تک 57 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، جن میں 1,422 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں 118 کا تعلق افغانستان سے تھا۔
ذرائع نے تصدیق کی کہ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی جاری ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک تفصیلی عمل ہے جس میں ملزم کو تمام قانونی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا کسی سیاسی جماعت سے نہ کوئی رابطہ تھا اور نہ ہے، مذاکرات صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی ہونے چاہئیں۔ ذرائع نے کہا کہ 9 مئی کے کیسز کا فیصلہ عدالتوں کے دائرہ کار میں ہے۔
