دوحہ حملہ،نیتن یاہو نےمعافی مانگ لی
اسرائیلی اخبار اور چینل 12 کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں موجودگی کے دوران قطری وزیر اعظم سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور دوحہ حملے پر معافی مانگی۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی منٹ گفتگو ہوئی، جس میں نیتن یاہو نے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور ایک قطری سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ معافی ان کوششوں کا حصہ ہے جو غزہ جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری ہیں۔ معافی کے بعد قطر کی جانب سے دوبارہ مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کا ہدف فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی مرکزی قیادت تھی۔ اسرائیلی فوج نے بعد میں تسلیم کیا تھا کہ دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق حملے کے وقت حماس کے سینئر رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا، جس میں خالد مشعل، خلیل الحیہ، زاہر جبارین، محمد درویش اور ابو مرزوق شریک تھے۔ اجلاس کی صدارت خلیل الحیہ کر رہے تھے اور موضوع غزہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز تھا۔
حماس کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بمباری کے دوران رہنما محفوظ رہے، تاہم تنظیم کے پانچ ارکان اور ایک قطری اہلکار جاں بحق ہوئے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے پہلے امریکا کو اطلاع دی گئی تھی اور اس میں امریکی تعاون بھی شامل تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ نے اس حملے کو "درست اور بروقت فیصلہ” قرار دیا۔
