بھارتی میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب
بھارتی ریاست بہار کے انتخابات کے قریب آتے ہی بھارت کے بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا تیز کر دیا گیا۔ 28 اگست 2025 کو بھارتی میڈیا نے یہ خبر نشر کی کہ تین پاکستانی شہری مبینہ طور پر کھٹمنڈو کے راستے بہار میں داخل ہوئے اور انہیں دہشت گرد قرار دے کر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا۔
تاہم، یہ دعویٰ جلد ہی بے بنیاد ثابت ہوا جب متعلقہ پاکستانی شہریوں کے بیانات اور سفری شواہد سامنے آئے۔ حقائق کے مطابق تینوں افراد صرف ملازمت اور سیاحت کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے اور ان کا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے تعلق نہیں تھا۔
حسنین علی – 28 اگست کو باتک ایئر ویز کی پرواز سے ملائیشیا روانہ ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ چند روز نیپال میں گھومنے کے لیے رکا تھا، وہاں سے کمبوڈیا جائے گا اور بعد میں واپس پاکستان لوٹ آئے گا۔
محمد عثمان -ولد بشارت، بہاولپور کا رہائشی، 8 اگست کو دبئی کے راستے کھٹمنڈو گیا۔ اس نے وضاحت کی کہ بھارتی میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کر کے انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا۔
عادل حسین-، میرپور خاص کا رہائشی، 8 اگست کو پرواز ایف زیڈ 344 کے ذریعے کھٹمنڈو پہنچا اور 27 اگست کو کمبوڈیا روانہ ہوا، جہاں وہ ملازمت کرتا ہے۔ اس کے مطابق وہ نیپال میں صرف سیاحت کے لیے رُکا تھا۔
یہ شواہد واضح کرتے ہیں کہ بھارتی میڈیا کی خبر بے بنیاد اور من گھڑت تھی۔
یاد رہے کہ مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے کی گئی کارروائی کے جواب میں پاکستان نے بھرپور جوابی ردعمل دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے متعدد طیارے اور ایئر بیسز کو نشانہ بنایا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسی پس منظر میں بھارت اپنی عسکری ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور اندرونی سیاسی مقاصد کے لیے اس طرح کے دعوے کر رہا ہے۔
