دریائے ستلج میں27سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،لاکھوں افراد متاثر
لاہور/قصور/ملتان — دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے اور 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
بھارتی جانب سے چھوڑے گئے پانی کے باعث قصور اور پاکپتن میں بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے،
درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے اور سینکڑوں چھوٹی بڑی آبادیاں کٹ کر رہ گئیں۔
انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے کئی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا،
تاہم متاثرین نے شکوہ کیا ہے کہ کشتیوں اور مویشیوں کی منتقلی کے انتظامات ناکافی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:۔ پنجاب میں سیلابی صورتحال،لاہور محفوظ مگر دیگر اضلاع میں خطرہ برقرار
پی ڈی ایم اے کے مطابق ستلج کے مختلف مقامات پر بہاؤ یوں ہے:
* گنڈا سنگھ والا: **3 لاکھ 3 ہزار کیوسک**
* سلیمانکی: **1 لاکھ 38 ہزار کیوسک**
* جلالپور پیروالا: **50 ہزار کیوسک** (جس سے 140 دیہات متاثر ہوئے)
اسی طرح دریائے چناب اور دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح بلند ہے:
* چناب (مرالہ): **1 لاکھ 11 ہزار کیوسک**
* چناب (قادرآباد): **1 لاکھ 71 ہزار کیوسک**
* راوی (شاہدرہ): **1 لاکھ 38 ہزار کیوسک**
* راوی (بلوکی ہیڈ ورکس): **1 لاکھ 99 ہزار کیوسک**
قصور: دریائے ستلج 30سال کی بلندترین سطح پر، پانی کا بہاؤ 3لاکھ 85ہزار کیوسک،pic.twitter.com/1BNm19MmJO
— Imran khan Fan (@ImranRKhaan) August 29, 2025
اب تک **پندرہ لاکھ سے زائد افراد متاثر** اور **28 اموات** رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ صرف ملتان کے علاقے میں آج شام تک 3 لاکھ سے زیادہ افراد کے انخلا کا امکان ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال تاحال غیر معمولی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
