ترکیہ نے اسرائیلی فضائی و بحری رسائی معطل کر دی
ترکیہ نے اسرائیلی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ ترک بحری جہازوں کو بھی اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ترک وزیر خارجہ **ہاکان فدان** نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ غزہ میں جاری انسانی المیے اور اسرائیلی جارحانہ اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق دنیا اب غزہ میں ہونے والی نسل کشی کو تسلیم کر رہی ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش میں ہیں۔
ہاکان فدان نے واضح کیا کہ عالمی برادری کو غزہ میں اسرائیل کی جانب سے پیدا کردہ قحط ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے بھی اب غزہ پر اسرائیلی حملوں کے حوالے سے اپنا مؤقف بدل لیا ہے اور کھل کر تل ابیب کا دفاع نہیں کر رہا۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیلی منصوبے دو ریاستی حل کو ناکام بنانے کی کوشش ہیں اور یہ پالیسی خطے میں مزید بدامنی کو جنم دے گی۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں تقریباً **63 ہزار فلسطینی شہید** ہو چکے ہیں، جب کہ علاقے میں قحط اور تباہی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں **بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)** نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے وارنٹ بھی جاری کیے تھے۔
